تحریر: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی
حوزہ نیوز ایجنسی| کربلا صرف ایک شہر کا نام نہیں، بلکہ حق، حریت، وفا، ایثار اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کی وہ ابدی علامت ہے جس نے چودہ صدیوں سے انسانیت کو ایک زندہ پیغام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں کربلا اور اہلِ بیتِ رسولؐ سے وابستہ مقدسات کو نشانہ بنانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، لیکن ہر دور میں حسینؑ کی فکر پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے۔
تاریخی منابع کے مطابق پہلی سعودی ریاست کے دور میں آلِ سعود کے لشکر نے ۲۱ اپریل ۱۸۰۲ء (۱۸ ذوالحجہ ۱۲۱۶ھ، عیدِ غدیر کے دن) کربلا پر حملہ کیا۔ اس حملے کی قیادت سعود بن عبدالعزیز نے کی، جبکہ بعض تاریخی روایات کے مطابق نجد سے آنے والے ہزاروں افراد اس لشکر میں شامل تھے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب کربلا کے بہت سے مرد حضرات عیدِ غدیر کی مناسبت سے نجفِ اشرف میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے روضۂ اقدس کی زیارت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے شہر میں داخل ہو کر حرمِ امام حسینؑ اور مقدساتِ کربلا کو نقصان پہنچایا۔ یہ واقعہ اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والوں کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک باب ہے۔
۱۲۱۶ء میں جب آلِ سعود کے لشکر نے نجف و کربلا کے مقدسات کو نشانہ بنایا، تو اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والوں کے دلوں پر ایک گہرا زخم لگا۔ آج جب کربلا کے زائرین کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو وہی تاریخی درد ایک بار پھر تازہ ہو جاتا ہے۔فرق صرف وقت اور مقام کا ہے؛ کل نشانہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا شہر نجف اور حرمِ امام حسینؑ تھا، جبکہ آج شہرِ حسینؑ کربلا کے زائرین ہیں۔ مگر تاریخ کا سبق ایک ہی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی محبت کو نہ کبھی تلواروں سے ختم کیا جا سکا اور نہ ظلم و جبر سے دبایا جا سکا۔
کربلا پر حملہ صرف ایک شہر یا ایک عمارت پر حملہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس عظیم فکر کو نقصان پہنچانے کی کوشش تھی جو انسانیت کو عدل، وفا، قربانی اور ظلم کے مقابلے میں استقامت کا درس دیتی ہے۔ کربلا ایک مقام سے بڑھ کر ایک مکتب ہے، ایک ایسی فکر ہے جو ہر دور میں حق و باطل کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔
حسینؑ کی محبت صرف ایک عقیدہ نہیں، بلکہ انسانیت، حریت، وفاداری اور ظلم کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا زندہ پیغام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنہوں نے تاریخ میں کربلا کی آواز کو دبانے کی کوشش کی، وہ خود تاریخ کے صفحات میں گم ہوگئے، لیکن حسینؑ کا نام اور ان کا پیغام آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ کربلا کے زائرین کا سفر ہمیشہ سے قربانی اور عشق کا سفر رہا ہے۔ آج بھی دنیا کے مختلف خطوں سے لاکھوں انسان فرزندِ رسول حضرت امام حسینؑ کا چہلم منانے کے لیے کربلا اور نجف کی جانب روانہ ہوتے ہیں۔ یہ سفر صرف ایک زیارت نہیں بلکہ پیغامِ عاشورا سے تجدیدِ عہد ہے؛ ایک عہد کہ ظلم کے سامنے خاموش نہیں رہا جائے گا اور حق و انصاف کے راستے پر ثابت قدم رہا جائے گا۔
اربعینِ حسینی دنیا کے سامنے امن، انسانیت، اخوت اور ایثار کا ایک بے مثال مظہر ہے۔ مختلف زبانوں، قوموں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے انسان ایک ہی مقصد کے ساتھ کربلا پہنچتے ہیں کہ وہ حسینؑ کے پیغامِ عدل و حریت کو زندہ رکھیں۔
ظلم کے اندھیرے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، چراغِ حق ہمیشہ روشن رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عشقِ حسینؑ کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوئی ہے اور آئندہ بھی ناکام رہے گی۔
کربلا، حرمِ امام حسینؑ اور زائرینِ سیدالشہداءؑ کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ہم ایسی ہر بزدلانہ حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ عشقِ حسینؑ کو ظلم، جبر اور طاقت کے زور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
السلام علیک یا اباعبداللّٰہ الحسینؑ









آپ کا تبصرہ